v

v

۱۳۹۰/۱۲/۰۳

اعتراض بلوچستان یا حقِ خود ارادیت پر ہے؟ اختر مینگل


مریکی رپبلکن پارٹی کے رکن اور خارجہ امور کی ذیلی کمیٹی کے چیئرمین ڈینا روباکر نے امریکی ایوانِ ایوانِ نمائندگان میں جمعہ کو ایک قرارداد پیش کی جس میں کہا گیا کہ بلوچ عوام کو حق خودارادیت اور آزاد ملک کا حق حاصل ہے اور انہیں موقع ملنا چاہیے کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کرسکیں۔ قرارداد میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان میں بلوچ عوام پر تشدد کیا جا رہا ہے اور وہاں ماورائے عدالت ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔ پاکستان کی حکومت اور حزب مخالف کی جماعتوں نے اس قراداد کے خلاف سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان کے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نےسنیچر کو کراچی میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے اس قرارداد کی مذمت کرتے ہوئے اسے پاکستان کی سالمیت پر حملے کے مترداف قرار دیا تھا۔ بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ اسلم
امریکی رپبلکن پارٹی کے رکن اور خارجہ امور کی ذیلی کمیٹی کے چیئرمین ڈینا روباکر نے امریکی ایوانِ ایوانِ نمائندگان میں جمعہ کو ایک قرارداد پیش کی جس میں کہا گیا کہ بلوچ عوام کو حق خودارادیت اور آزاد ملک کا حق حاصل ہے اور انہیں موقع ملنا چاہیے کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کرسکیں۔ قرارداد میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان میں بلوچ عوام پر تشدد کیا جا رہا ہے اور وہاں ماورائے عدالت ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔ پاکستان کی حکومت اور حزب مخالف کی جماعتوں نے اس قراداد کے خلاف سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان کے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نےسنیچر کو کراچی میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے اس قرارداد کی مذمت کرتے ہوئے اسے پاکستان کی سالمیت پر حملے کے مترداف قرار دیا تھا۔ بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ اسلم رئیسانی نے اس قرارداد کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا۔
لیکن بلوچستان کی علحیٰدگی پسند تنظیموں کے علاوہ بعض قوم پرست جماعتوں نے بھی اس قرار داد کا خیر مقدم کیا ہے۔ بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ اور قوم پرست جماعت بلوچ نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل نے بھی بلوچوں کی حق خود ارادیت میں امریکی نمائندگان میں پیش کی جانے والی قرارداد کو اچھی پیش رفت قرار دیا ہے۔
اسلام آباد میں ہمارے ساتھی ذوالفقار علی نے بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ اور قوم پرست جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل سے 'جو دبئی میں مقیم میں ہیں‘ ٹیلفون پر بات کی اور ان سے امریکی نمائندگان میں پیش ہونے پر والی قرار داد پر رد عمل جاننا چاہا تو ان کا جواب یوں تھا۔

to Listen please visit:


Source: http://www.bbc.co.uk/urdu/multimedia/2012/02/120220_akhter_mengal_int_as.shtml

هیچ نظری موجود نیست:

ارسال یک نظر